Chairman EOBI Azhar Hameed visits SITE Association - Meeting with EOBI Chairman


24th April 2019





Chairman, Employees Old-Age Benefits Institution Azhar Hameed has assured the industrialists that harassment to industries in the name of inspection will not be tolerated while EOBI is fully committed to facilitate payments of EOBI contribution by the industries.


He was addressing the Members of SITE Association of Industry as Chief Guest the other day on his visit. He was accompanies by high officials of his department.


Welcoming the Chief Guest, President SITE Association Saleem Parekh stressed the need to resolve litigation matters amicably and requested Chairman EOBI to withdraw demand of arrears payments of previous years as the order was implemented from retrospective effect. He suggested to introduce an amnesty-like scheme for the industries and added that it will not only encourage employers to make payments of EOBI contribution but also result in more collection at the EOBI end.


Mr.Parekh also requested Chairman EOBI to clarify legal standing of EOBI in post 18th Amemnent scenario and drew his attention towards harassment by EOBI officers in the name of record checking / inspection and demanded to stop harassing industrialists forthwith. He said that situation is still not clear about minimum wage on which, EOBI contribution is paid.


Mr.Azhar Hameed replying to queries raised, said that amnesty-like scheme to encourage payment of EOBI contribution can be considered. Reforms are being introduced in the EOBI and positive development will be made soon. He offered to give nomination to SITE Association of Industry in the Board of Trustees of EOBI and added that it will help in redressing grievances of industries expeditiously. He also suggested to nominate a Focal Person from SITE Association to work as point of contact between the industries and EOBI.


Giving his views on the devolution of EOBI after 18th Amendment, Azhar Hameed said that  it will create lot of issues for workers if EOBI is declared as a provincial subject because large number of workers in Karachi come from other provinces and a considerable 30 percent share of pension is trans-provincial. We are working to ensure that pension procedure is completed in 45 or earlier as per provisions of law.


On contribution payment, Azhar Hameed asked industries to make payment from 2016 onwards on the minimum wage of 13,000/-. Giving pension benefits details,  Azhar Hameed said that by end of current financial year, EOBI pension payments will touch 35 billion mark. EOBI is also working to lower our revenue losses by revitalizing investment projects.


Regarding inspection & audit, he said that audit parameters are being reviewed which will be shared with industries. E-portal services and system data are also being improved. In next few months, almost 80pc data of EOBI shall be corrected. A New system for Employee registration will be introduced in next few months. We want partnership with industries to achieve a win-win situation.


Speaking on the occasion, Patron of SITE Association Zubair Motiwala said that since EOBI has sufficient funds available, it should consider suspending payment of EOBI for few years to give some relief to industries. EOBI fund should be used for workers welfare only and in this regard, SITE Association is ready to extend every support to EOBI.


Former Chairman of SITE Association Younus Bashir also spoke on the occasion and said that increase or decrease in the number of workers in the factory can be assessed by checking utilities bills of industries. This move may help in improved contribution for the EOBI. He demanded to ensure that no notices are issued to industries on unjustified complaints stating that EOBI is not a tax, it’s a contribution. He also drew attention of Chairman on the illegal activities of so-called labour leaders which were harassing industries by misguiding their workers in the name of EOBI benefits.


Chairman EOBI, SESSI & Labour Committee Touseef Ahmed presented a brief on the issues & problems faced by members of the Association which in particularly included non-receipt of EOBI cards, cumbersome & lengthy procedure for getting pension, demanding unnecessary documents etc. Members of the Association present in the meeting also briefed the Chairman on their specific issues which were satisfactorily answered by him. As a gesture of goodwill, Association’s crest was presented to Azhar Hameed.


Issued for favor of publication in your esteemed newspaper.



Dr. Syed Azhar Ibne Hasan

Secretary General 




پریس ریلیز
سائٹ ایسوسی ایشن نے ای اوبی آئی کے ساتھ صنعتوں کے تنازعات کا حل پیش کردیا
ای او بی آئی صنعتوں کے لیے ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کرے ، سلیم پاریکھ،صدر سائٹ ایسوسی ایشن
صنعتوں کو ہراساں کرنا برداشت نہیں کریں گے، ای او بی آئی میں اصلاحات لارہے ہیں،اظہرحمید
مسائل کے جلد حل کے لیے سائٹ کے صنعتکاروں کوبورڈ آف ٹرسٹیز میں نمائندگی دی جائے گی، چیئرمین ای او بی آئی
سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر سلیم پاریکھ نے ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن ( ای او بی آئی ) اور صنعتوں کے درمیان تنازعات کو ختم کرنے کا حل پیش کرتے ہوئے تجویز دی ہے کہ ای او بی آئی صنعتوں کے لیے ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کرے اور کنٹری بیوشن کی مد میں گزشتہ سالوں کی ادائیگیوں سے استثنیٰ دیتے ہوئے 2019سے اسے لاگو کیا جائے تاکہ صنعتی ورکز کی بہبود کے لیے بلارکاوٹ کام کیا جاسکے اور عدالتی کیسز کو باہمی رضامندی سے نمٹایا جاسکے۔یہ بات انہوں نے چیئرمین ای او بی آئی اظہر حمید کے سائٹ ایسوسی ایشن کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب میں کہی۔اس موقع پر ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ زبیر موتی والا، سابق صدر یونس ایم بشیر،سینئر نائب صدر احسن ایوب،نائب صدر نوید واحد،چیئرمین سب کمیٹی برائے سیسی،ای اوبی آئی ،لیبر توصیف احمد،ڈی جی ای او بی آئی محمد عقیل صدیقی کے علاوہ ممبران کی بڑی تعداد اجلاس میں شریک ہوئی۔
سلیم پاریکھ نے چیئرمین ای او بی آئی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سائٹ ایسوسی ایشن کا سب سے پہلے دورہ کرنے پر اظہر حمید کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ صنعتکار برادری کو نئے چیئرمین سے ملاقات کے بعد مسائل کے جلد حل کی امید ہوچلی ہے اس ضمن میں سائٹ ایسوسی ایشن اپنا ہر ممکن تعاون پیش کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے18ویں ترمیم کے تناظر میں ای او بی آئی کی وفاقی یا صوبائی حیثیت سے متعلق سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ کنٹری بیوشن کے کم سے کم ویج کا تعین صوبائی قانون کے مطابق ہوگا یا پھر 01/2016کے سرکلر کے مطابق ہوگا۔اس سرکلر کی تعمیل کا مسئلہ عدالت میں ہے جس کی وجہ سے بیشترصنعتیں وہی کنٹری بیوشن جمع کروارہی ہیں جو سرکلر کی تاریخ تک نافذ تھا مگرصنعتوں سے بقایات کا تقاضاکرناسراسر زیادتی ہے جبکہ آڈٹ کے نام پر ہراساں کرنا بھی سنگین مسئلہ بن گیا ہے جس کا نوٹس لینے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے چیئرمین ای او بی آئی سے ویب پورٹل پر آن لائن سہولت فراہم کرنے کی بھی درخواست کی۔
چیئرمین ای او بی آئی اظہر حمید نے ایمنسٹی اسکیم کی تجویز کے جواب میں کہاکہ وہ فوری طور پر ازخود اس کا اعلان نہیں کرسکتے البتہ اس پر غور کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے صنعتوں کے ساتھ مضبوط رابطے کو مسائل کے حل کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہاکہ ای او بی آئی میں اصلاحات لائی جارہی ہیں اورجلد ہی مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔انہوں نے ای اوبی آئی کے بورڈ آف ٹرسٹیزمیں سائٹ ایسوسی ایشن کی نمائندگی کے لیے نامزدگی طلب کرتے ہوئے کہاکہ سائٹ کے صنعتکاروں کی نمائندگی سے صنعتوں کے مسائل زیادہ برق رفتاری سے حل ہوسکیں گے۔انہوں نے کہاکہ ای اوبی آئی کو صوبائی ادارہ ڈکلیئر کرنے کی صورت میں نقصان ورکرزکا ہوگا کیونکہ دیگر صوبوں سے ورکرزکراچی کی صنعتوں میں کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے ورکرز کو ادائیگیوں میں دشواریوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔
اظہر حمید نے آڈٹ کے حوالے سے شکایات پر کہاکہ صنعتکاربرادری کو ہراساں کرنے کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے اس حوالے سے فوری شکایت کی جائے۔صنعتوں کے انسپیکشن کے لیے پیرا میٹرزطے کیے جارہے ہیں جو صنعتوں کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ ای پورٹل کو مزید بہتر بنایا جارہاہے اور ڈیٹا بینک کوبھی اپ ڈیٹ کیا جارہاہے جبکہ ڈیفالٹ لسٹ کو بھی درست کیا جارہاہے کیونکہ ہم صنعتوں کے شراکت دار بننا چاہتے ہیں تب ہی مسائل حل ہوں گے۔
سائٹ کے سرپرست اعلیٰ زبیر موتی والا نے کہاکہ ای او بی آئی کے فنڈز کو ورکرز کی بہبود کے لیے استعمال کیا جائے اور صنعتوں کو ادائیگیوں کی مد میں 3سال کے لیے ریلیف دیاجائے ۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کی کارروائی سے پہلے سائٹ ایسوسی ایشن کو اعتماد میں لیا جائے اس ضمن میں ہم ہر ممکن تعاون کریں گے اور غلط لوگوں کی ہر گز حمایت نہیں کریں گے۔
سائٹ ایسوسی ایشن کے سابق صدریونس بشیر نے ای او بی آئی میں سائٹ کو نمائندگی دینے کی درخواست کرتے ہوئے کہاکہ صنعتوں کے کنٹری بیوشن کو 3سال کے لیے منجمد کیا جائے اور آڈٹ کے حوالے سے پیرامیٹرز طے کیے جائیں تاکہ ممکنہ پریشانی سے بچا جاسکے جبکہ فیکٹری میں ورکرز کی تعداد کا اندازہ اس کے یوٹیلیٹی بلز کے ذریعے لگایا جائے اس اقدام سے صنعتوں کے کنٹری بیوشن میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے چیئرمین ای او بی آئی سے کہاکہ وہ اس امر کو بھی یقینی بنائیں کہ غلط شکایتوں پر بلاتصدیق صنعتوں کو نوٹسز جاری نہ کیے جائیں۔
چیئرمین سب کمیٹی برائے سیسی،ای اوبی آئی ،لیبر توصیف احمد نے اجلاس میں ورکرز کو ای او بی آئی کارڈ کے حصول کو آسان بناتے ہوئے جلد اجراء اورپنشن کے لیے غیر ضروری کاغذات طلب نہ کرنے کی درخواست کی اور دیگر مسائل کوبھی اجاگر کیا۔