Acting MD of SSGC visits SITE Association14-Mar-2019


15th March 2019






Acting Managing Director of Sui Southern Gas Company Limited Mohammad Wasim has said that by end of March, gas supply to industries is likely to improve due to improvement in gas supply.


He was addressing Members of SITE Association of Industry on the occasion of his visit. He was accompanied by other high officials of his department.


M/s. Siraj Kassam Teli (Patron-in-Chief), Zubair Motiwala (Patron), Saleem Parekh (President), Ahsan Arshad Ayub (SVP), Naveed Wahid (SVP), Jawed Bilwani (former President), Younus Bashir (former President), Dr.Kazi Ahmed Kamal (Advisor), Arif Lakhani (Chairman, APTPMA Southern Zone) and large number of members attended the meeting. Members briefed the AMD SSGC on their issues to which, AMD SSGC assured them to resolve on priority.


Mr.Wasim said that closing down of gas supply to industries on Sundays is the last option for SSGC. In case SSGC doesn’t close gas supply to industries on Sundays, industries will face problem throughout the week. For the purpose of supplying gas in required pressure, gas lines are being checked simultaneously with gas load checking of industries. This will be done in coordination & consultation of SITE Association and in this regard, SSGC requests SITE Association to nominate its Focal Person.


Mr.Wasim directed his team to resolve issues of Members of the Association on priority and give proper timeframe for their resolution. Replying to a query about excessive billing, he assured the Members to review all such bills issued. 


Speaking on the occasion, Patron-in-Chief Siraj Kassam Teli said that our system will not improve until & unless all politicians & bureaucrats mend their ways. Beside he stressed the business community to speak truth and stand with truth always which is the only way to get their issues resolved. He said that non-stop working of industries throughout the week is the only way to boost exports which is a must for country’s development. Therefore, SSGC should ensure uninterrupted gas supply to industries. Referring to Article-158 of the Constitution of Pakistan,  he said that gas producing province shall have precedence over other parts of the country but unfortunately, it is not being done in the case of Sindh province. Sindh must be given its due share in gas as per constitution.


Earlier, welcoming the guests, President of the Association of Saleem Parekh said that SSGC is making it difficult for the industrialists to run their factories on the pretext of gas shortage. Earlier, industries were facing low gas pressure issue but now if someone runs his factory on Sunday, he is charged with ‘gas theft’ notice. Resultantly, members of the Association are reluctant to approach SSGC. 


He demanded to allow SITE Industries to run on Sundays as it is essential for timely completion of export orders. Currently, production process in SITE industries has come to a halt whereas in other industrial areas of Karachi, the industrial process continues unabated. Negative message is being communicated about SITE area among foreign buyers whereas it seems that some elements do not want SITE industries to run or get export orders. He said that in the month of January, exporting industries expect new orders but approx. 295 working hours were lost in January which resulted in huge losses for them. For summer orders, the industrialists are undecided over acceptance of export orders as they are still unclear about gas supply in summer. Mr.Parekh also requested AMD SSGC to take notice of harassment of industrialists in the name of gas load checking.


Patron of SITE Association Mr.Zubair Motiwala, speaking on the occasion and said that Karachi contributes 52pc of country’s total exports therefore, it deserves its due share & right in resources. He informed AMD SSGC that five zero-rated sectors are also not getting proper gas and added that industries should run to put country on the track of development.


Former President of SITE Mr.Jawed Bilwani also spoke on the occasion and said that residential consumers are being provided with new gas connections while industries are being offered RLNG connections. Industries pay huge bills and provide jobs to masses. By running industries on Sundays, industrial production will grow by approx. 14pc which will definitely boost exports but apparently it seems that we are not interested in boosting of exports. 


Former President of SITE Younus Bashir mentioned that in other industrial areas of Karachi, industries are running smoothly whereas in SITE Area due to gas shortage, industries hardly manage to run on 20-22 days. As such, the government should take measures to ensure hurdle-free production process.


For favour of publication in the next issue of your esteemed daily.



Dr.Syed Azhar Ibne Hasan

Secretary General

پریس ریلیز(14-03-2019)
رواں ماہ گیس کی صورتحال بہتر ہونے سے صنعتوں کو گیس کی فراہمی میں بہتری آئے گی ، قائمقام ایم ڈی سوئی سدرن گیس
پورے ہفتے 24گھنٹے صنعتیں چلیں گی تو برآمدات میں اضافہ ہوگا اور ملک ترقی کرے گا،سراج قاسم تیلی
برآمدی آرڈرز لیں یا نہ لیں،صنعتکار گیس کی کمی کی وجہ سے تذبذب کا شکار ہیں، سلیم پاریکھ

سوئی سدرن گیس کمپنی کے قائمقام منیجنگ ڈائریکٹر محمدوسیم نے کہا ہے کہ رواں ماہ کے آخر تک گیس کی صورتحال بہتر ہونے سے توقع ہے کہ صنعتوں کو گیس کی فراہمی میں کسی حد تک بہتری آئے گی کیونکہ ایس ایس جی سی کو گیس ملے گی تو وہ صنعتوں کو سپلائی دے گی۔یہ بات انہوں نے سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری میں اجلاس سے خطاب میں کہی۔اس موقع پر سائٹ ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ سراج قاسم تیلی، سرپرست زبیر موتی والا، سائٹ ایسوسی ایشن کے صدر سلیم پاریکھ ، سینئرنائب صدر احسن ارشد ایوب، نائب صدرنوید واحد، جاوید بلوانی، یونس بشیر ، کمیٹی ایڈوائزر ڈاکٹر قاضی احمد کمال، چیئرمین اپٹما سندھ بلوچستان زون عارف لاکھانی کے علاوہ ممبران کی بڑی تعداد اجلاس میں شریک تھی۔اجلاس میں ممبران نے اپنے مسائل پیش کیے جس کے جواب میں قائمقام ایم ڈی نے مسائل کے حل کی یقین دہانی کروائی۔
ایس ایس جی سی کے قائمقام ایم ڈی نے کہاکہ اتوار کو صنعتوں کی گیس بندکرناہماری مجبوری ہے کیونکہ اگر ایک دن گیس بند نہیں کریں گے تو صنعتوں کے لیے پورا ہفتہ گزارنا مشکل ہوجائے گا۔انہوں نے سائٹ میں گیس کے کم پریشر کی شکایت کے جواب میں کہاکہ مطلوبہ گیس پریشر کے ساتھ گیس کی فراہمی کے لیے لائنوں کا جائزہ لیا جارہاہے جبکہ صنعتوں کا لوڈ چیک کرنے کے لیے سائٹ ایسوسی ایشن کو اعتماد میں لیا جائے گا اس حوالے سے سائٹ ایسوسی ایشن اپنا فوکل پرسن مقرر کرے۔انہوں نے صنعتکاروں کو گیس سے متعلق مسائل کو فوری حل کرنے اور ٹائم فریم دینے کی بھی ہدایت کی۔قائمقام ایم ڈی نے صنعتوں کو گیس کے زائد بل بھیجنے کابھی نوٹس لیتے ہوئے یقین دہانی کروائی کہ زائد بلوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
سائٹ ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ سراج قاسم تیلی نے کہاکہ جب تک سیاستدان اور بیوروکریٹس ٹھیک نہیں ہوں گے نظام بھی ٹھیک نہیں ہوگا۔انہوں نے تاجربرادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ سچ بولیں اور سچ کے ساتھ کھڑے ہو کر آواز بلند کریں تب ہی ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہوں گے۔انہوں نے مزید کہاکہ پورے ہفتے 24گھنٹے صنعتیں چلیں گی تو برآمدات میں اضافہ ہوگا اور ملک ترقی کرے گا لہٰذا صنعتوں کو بلارکاوٹ گیس کی فراہمی یقینی بناتے ہوئے آئین کی شق158کے تحت سندھ کو اس کا جائز حق دیا جائے۔
سائٹ ایسوسی ایشن کے صدر سلیم پاریکھ نے کہاکہ ایس ایس جی سی نے گیس کی کمی کا بہانہ بنا کر صنعتکاروں کے لیے فیکٹری چلانا دشوار بنا دیا ہے۔پہلے گیس کے کم پریشر کے مسئلے کا سامنا تھا اور اب اتوار کے روز اگر کوئی اپنی فیکٹری چلاتا ہے تو اس پر گیس چوری کا الزام عائد کردیاجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ صنعتکار سوئی سدرن گیس کے آفس جانے سے ڈرنے لگے ہیں۔انہوں نے اتوار کے روز سائٹ کی صنعتوں کو فیکٹریاں چلانے کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ صنعتیں چلیں گی تو برآمدی آرڈرز کی بروقت تکمیل ممکن ہوگی۔یہاں حال یہ ہے کہ گیس نہ ہونے سے سائٹ کی برآمدی صنعتوں میں پیداواری عمل تعطل کا شکار ہورہاہے جبکہ دیگر صنعتی علاقوں میں پیداواری عمل جاری ہے جس کی وجہ سے سائٹ کے بارے میں یہ افواہیں پھیلائی جارہی ہیں کہ گیس نہ ہونے کی وجہ سے سائٹ میں پیداواری صورتحال انتہائی خراب ہے جس سے بیرون ملک خریداروں تک منفی تاثر جارہاہے۔بعض لوگ یہ بھی چاہتے ہیں سائٹ کی صنعتوں کوبرآمدی آرڈرز نہ ملیں۔انہوں نے بتایا کہ جنوری میں برآمدی آرڈرز ملنے کی توقع ہوتی ہے لیکن جنوری میں 295گھنٹے کم پریشر کی وجہ سے ضائع ہوگئے اور اب صنعتکار تذبذب کا شکارہیں کہ وہ گرمیوں میں برآمدی آرڈرز لیں یا نہ لیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اگر سردیوں کی طرح گرمیوں میں بھی انہیں گیس نہ ملی تو برآمدی آرڈرز کی بروقت تکمیل کیسے کریں گے۔انہوں نے قائمقام ایم ڈی سے فیکٹریوں میں گیس لوڈ چیک کرنے کے نام پر صنعتکاروں کو پریشان کرنے کانوٹس لینے کی بھی درخواست کی۔
سرپرست سائٹ ایسوسی ایشن زبیر موتی والا نے کہاکہ کراچی پورے ملک میں سب سے زیادہ 52فیصد برآمدات کا حصہ دارہے ان اعدادوشمار کو دیکھ کر ہی کراچی کو اس کا جائز حق دے دیں۔انہوں نے قائمقام ایم ڈی کو بتایا کہ 5زیرو ریٹیڈ سیکٹرز کو بھی گیس نہیں مل رہی۔انہوں نے درخواست کی کہ صنعتوں کو چلنے دیں تاکہ ملک آگے بڑھ سکے۔ جاوید بلوانی نے کہاکہ گھروں کو قدرتی گیس کے کنیکشن جبکہ صنعتوں کو آر ایل این جی کے کنیکشن دیے جارہے ہیں حالانکہ صنعتیں زیادہ بل دیتی ہیں اور روزگار کے وسیع مواقع بھی پیدا کرتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ اتوار کو صنعتیں چلنے سے پیداوار میں14فیصد اضافہ ہوگا جس سے یقینی طور پر ملکی برآمدات کو فروغ ملے گا مگر ایسا لگتا ہے کہ ہم جان بوجھ کر ملکی برآمدات کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ یونس بشیر نے کہاکہ کراچی کے دیگر صنعتی علاقوں میں فیکٹریاں چل رہی ہیں مگر سائٹ کی صنعتیں مشکلات سے دوچار ہیں۔ گیس کی کمی کی وجہ سے سائٹ کی صنعتیں بمشکل20سے22دن ہی چل پاتی ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک کو اقتصادی ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لیے بلارکاوٹ پیداواری سرگرمیاں جاری رکھنے کے اقدامات کرے۔